بات چیت
معنی
١ - گفتگو، بول چال، حرف و حکایت۔ "دوپہر کو - ان سے بات چیت ہوتی ہے۔" ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٢١ ) ٢ - معاملت، مول تول۔ "ان کے مکان کی بات چیت چار ہزار روپئے تک پہنچ گئ ہے، امید ہے کہ کل بیعانہ بھی ہو جائے گا۔" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٧٤:٢ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اسم 'بات' کے ساتھ تابع مہمل 'چیت' ملنے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣٦ء میں "ریاض البحر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گفتگو، بول چال، حرف و حکایت۔ "دوپہر کو - ان سے بات چیت ہوتی ہے۔" ( ١٩١٦ء، گہوارۂ تمدن، ١٢١ ) ٢ - معاملت، مول تول۔ "ان کے مکان کی بات چیت چار ہزار روپئے تک پہنچ گئ ہے، امید ہے کہ کل بیعانہ بھی ہو جائے گا۔" ( ١٩٥٨ء، مہذب اللغات، ١٧٤:٢ )